Biography of Hazrat Mawlana Mufti Shah Muhammad Abdullah Phoolpuri Sahib (DB)

Posted May 15, 2015 by Nabeel Khan
Categories: Akaabir, Connection with Allah, Love of Allah

Hazrat Shaykh Mufti Muhammad Abdullah Phoolpuri (DB) is one of leading mashaaikh of Tasawwuf in the present era. Hazratwala (DB) devotes himself entirely to the service of Islam. Hazratwala (DB) completed the Iftaa’ exam successfully and at the top of his class earning the first place position in his student days while Hazrat was in Mazahir ul ‘Uloom Saharanpur. Hazrat broke the  30 year old record held in the madrasah and earned the highest possible grades in the history of the madrasah. Hazratwala (DB) regularly delivers lectures, and he has written many books.

Hazrat Shaykh Mufti Muhammad Abdullah Phoolpuri (DB) is one of the most gifted scholars of Islam today. His reputation and standing to the Muslims of Indian subcontinent needs no introduction. However, for the benefit of others, Hazratwala (DB) has been favored by Allah to have been spiritually nurtured by many of the greatest and most renowned Awliyaa’ (saints) of the recent past. Hazratwala (DB) regularly travels to many countries, transforming the lives of people all over the world. A testament to his deep love for Allah, his uncompromising dedication to Sunnah of the blessed Prophet (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam), and his firm adherence to Shari’ah is that thousands of religious scholars and students of Islamic learning are among his students (mureeds). His inclination towards the Creator – The Almighty Allah began from his early childhood. He dedicated his life to be in the service of those pious servants of Allah, whom the world today refers as Ahlullah (saints) even before he became a teenager. From the tender age of 12, he began attending discourses of the renowned scholars of the time. His discourses permeate the listeners’ hearts with Allah’s love, greatness and the hope of salvation. Every word he utters brings one closer to the Creator – Almighty Allah. His company impresses upon those around him to converge their mental as well as physical ‘ being ‘ into living a life according to the Creator’s criterion. His discourses know no language, color or age barriers and even those alien to Urdu benefit.

In his discourses and writings, he explores profound topics relevant to the Ummah at this time. Other ‘Ulama throughout the world benefit from and utilize his understanding and explanation of man’s relationship with Allah.  They use his explanation about the prevalent spiritual and physical diseases and his prescription for their rectification as a crucial resource to aid them in their work.

مختصر تعارف

عارف بالله پیرطریقت حضرت اقدس مولانا مفتی محمد عبدالله صاحب پھولپوری دامت برکاتہم

نام ونسب: آپ کا نام محمد عبدالله بن ابوالبرکات (عرف چھوٹے بابو) بن شاہ عبدالغنی بن شیخ عبدالوہاب بن شیخ امانت الله ہے، حضرت شیخ امانت الله اپنے وقت کے صاحب نسبت بزرگ اور ولی کامل تھے، آپ کا اصلاحی تعلق حضرت مرزامظہرجان جاناں علیہ الرحمہ کے خانوادہ تصوف سے تھا۔

ولادت: حضرت اقدس کی ولادت آپ کے نانیہال موضع آنوک پوسٹ سرسال ضلع اعظم گڈھ میں ہوئی، دادا جان حضرت پھولپوری  نے آپ کو دیکھ کر فرمایاکہ یہ بچہ بڑا ہوکر بہت بڑا عالم اور میرا جانشین ہوگا، یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ہوئی۔

سکونت: آپ کے دادا حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری  اپنا آبائی وطن چھوڑکر پھولپور ہجرت کرآئے تھے، اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلیئے اسی وجہ سے آپ کا پورا خاندان پھولپور میں مقیم ہوگیا، اسی مناسبت سے آپ بھی ”پھولپوری“ کہلاتے ہیں۔

آپ کے دادا صاحب نسبت بزرگ تھے، آپ ۱۸۹۰ء میں ضلع اعظم گڈھ کے ایک گاوٴں ”چھاوٴں“ میں پیدا ہوئے، علوم ظاہری میں کمال پیدا کرنے کے بعد علوم باطنی یعنی تصوف کی طرف توجہ دی، اور اپنے زمانہ کے حکیم ومجدد شیخ الکل علی الکل حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پربیعت کی، اور اس راہ میں بھی کمال پیدا کیا اور اپنے شیخ کے علوم ومعارف کے امین بن گئے۔

حضرت تھانوی علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے مجدد تھے مجدد ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو دین میں پھیلی ہوئی بدعات کو ختم کرکے قرآن وسنت کو رواج دیتے ہیں،حدیث میں ہے حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ہر سوسال بعد دین کے اندر جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان کو فرد کرنے کے لئے میری امت میں سے ایک آدمی بھیجا جاتا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔

حضرت اقدس تھانوی علیہ الرحمہ بھی ان ہی برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جن سے الله تعالیٰ نے تجدید دین کا کام لیا تھا، اور بلاشبہ وہ اپنے صدی کے مجدد تھے۔

وعظ وتقریر ،تصنیف وتالیف کے ذریعہ الله تعالیٰ نے ان سے اس قدر کام لیا کہ آج اس کا تصور کرنا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے، ملک کے گوشے گوشے میں آپ کی تقریر کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کوئی عالم ایسا نہیں جو آپ کی تصنیفات سے بے نیاز ہو، آپ کی تالیفات کی تعداد پندرہ سوتک پہونچ جاتی ہے۔

ان ہی برگزیدہ ہستی کی صحبت میں حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری  نے بھی تربیت پائی، اور صدق وصفا کے ساتھ ایک مدت تک اپنے باطن کی اصلاح کرتے رہے اور بالآخر خلافت سے سرفراز ہوئے ، حضرت تھانوی کے دل میں ان کا احترام اس طرح راسخ ہوا کہ خود شیخ اپنے مرید کے متعلق یہ فرمایا کرتے کہ حضرت مولانا پھولپوری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں خود احترام کرتا ہوں، جب یہ آتے ہیں تو میں اپنے قلب میں سکونت محسوس کرتا ہوں اور ان کے کثرت ذکر کی وجہ سے میرے دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔

حضرت تھانوی  کی وفات کے بعد تمام متعلقین نے آپ کو اپنا بڑا تسلیم کرلیا بلکہ ان میں سے اکثرنے اپنی اصلاح آپ سے کرائی ، اور کئی ایک آپ سے باضابطہ بیعت ہوگئے۔

۱۳۴۹ء میں آپ نے شیخ ومربی کے حکم سے ایک ادارے کی بنیاد ڈالی، یہی ادارہ آج مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم کے نام سے مشہور ہے اور ترقی کے بام اوج کو چھورہا ہے۔

آپ نے خون جگر سے اس کو سینچا، پروان چڑھایااوریہیں سے اصلاح افراد کا وہ عظیم الشان کام انجام دیا جس کی وجہ سے پورا علاقہ بددینی کی راہ پر جاتے جاتے رک گیا اور اپنی پوری زندگی اسی کارخیر میں لگادی ، مخلوق خدا کو ہرطرح سے سمجھابجھاکرراہ راست پر لانے میں اپنی پوری توانائی صرف فرمادی۔

آپ فطرةً محتاط تھے، تقویٰ اور پرہیز گاری کے آثار آپ کے اعضاء سے چھلکتے محسوس ہوتے، اسی احتیاط اور تقویٰ کا اثر تھا کہ کبھی بھی مدرسہ کی کوئی چیز نہیں چکھی، نمک سے بھی حتی الامکان احتراز کرتے رہے، تنخواہ تو دورکی بات ہے، علاقہ اس بات کے لئے شاہد ہے۔

آپ علم وفضل مین بھی ایک امتیازی درجہ رکھتے تھے، ادق سے ادق اور غامض سے غامض مضمون کو بڑے خوش اسلوبی سے سمجھادیا کرتے تھے، اسی وجہ سے ایک مرتبہ دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لئے حضرت تھانوی نے آپ کو منتخب فرمایا تھا۔

میدان تصوف کے آپ شہسوار تھے، مسترشدین کی اصلاح وتربیت اپنے شیخ حضرت تھانوی کے ہوبہو فرماتے تھے، ملک کے بے شمار علماء صلحاء اور نواب آپ کے ارادت مندوں میں داخل تھے، ان کی دیکھ ریکھ آرام وراحت کا بڑا خیال فرماتے۔

آپ کے خلفاء بھی بڑے پائے کے ہوئے اور بے شمار لوگوں نے اپنی مکمل اصلاح آپ سے فرمائی ،ان ہی تربیت یافتہ لوگوں میں سے حضرت اقدس مولانا شاہ ابرارالحق صاحب حقی نورالله مرقدہ‘ بھی ہیں، حضرت مولانا ابرارالحق صاحب ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت تھانوی رحمة الله علیہ نے زمانہ طالب علمی ہی میں بیعت فرمالیا تھااور کچھ ہی دنوں کے بعد خلافت سے سرفراز فرمایا، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت پھولپوری قدس سرہ‘ کے دامن تربیت سے وابستہ ہوگئے اور ان ہی کی خدمت میں رہ کر ایک عظیم مصلح بن کرنکلے۔

آپ کی اصلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے ،ہرشعبہ میں جہاں جہاں سنت کے خلاف امور رواج پاگئے تھے آپ نے اس کی اصلاح فرمائی اور اس کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہے، اسی وجہ سے آپ محی السنّہ سے مشہور ہوئے۔

الله تعالیٰ نے آپ سے بھی بڑا کام لیا ، اپنے علاقہ ہردوئی میں ایک دینی ادارہ قائم کیا جو ہر چہارسو مشہور ہے، اس کے علاو ہ اور بھی بے شمار دینی ادارے اور رفاہی کاموں کے نگراں اور ذمہ دار تھے، اور دعوة الحق کے تحت بے شمار مکاتیب اور مدارس کا قیام فرمایا، اور آخر میں تقریباً ۱۶/سال تک مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔

آپ کے مریدین اور خلفاء کا ایک طویل سلسلہ بھی ملک اور بیرون ملک پھیلا ہوا ہے ، اسی مضبوط اور طویل سلسلہ کی ایک روشن کڑی جنیدوقت ، بقیة السلف، محدث عصر، قطب زمانہ عارف بالله حضرت اقدس مولانا شاہ مفتی محمد عبدالله صاحب پھولپوری ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر کی ذات گرامی ہے ، آپ کی ذات دادا جان جضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری  اور حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی ، دونوں حضرات کی تعلیمات اور دعاوٴں کا سنگم ہے اور مرکز ہے، حضرت پھولپوری کے علوم ومعارف بھی آپ کو ودیعت کی گئی اور حضرت ہردوئی قدس سرہ‘ کا جذبہ اصلاح بھی وافرمقدار میں عطاکیا گیاہے۔

الله تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازہ ہے، سوزوگداز دل عطا کیا گیا ہے، اور امت کی تڑپ بھی اندرون قلب سے ظاہر ہوتی ہے، علم سے بھی بہرہ ور ہیں، عمل کا داعیہ بھی پیدا کیا گیا ہے، رکھ رکھا میں سادگی ، معاملات میں صفائی، کردارمیں پختگی، گفتار میں جاذبیت، ملاقات میں اپنائیت، ہرہر ادا سے سنت کی خوشبو پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، حسن سیرت وصورت کے ساتھ ساتھ دنیاوی جاہ وجلال اور مال ومنال سے بھی بہرہ مند ہیں، آپ کے پاس جو بھی آتا ہے ظاہری ہو یاباطنی، مادی ہو یا روحانی، جسمانی ہو یا قلبی، دینی ہو یادنیاوی، اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق وہ دامن مراد بھر کرجاتا ہے، وہ خود استفادہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی درکا راہی بناتا ہے، بڑوں کی توقیر، چھوٹوں پر شفقت ، طلبہ پر مہربانیاں اور مریدین پر آسانیاں آپ کی فطرت ثانیہ ہے، ہزاروں کی تعداد میں مسترشدین راہِ سلوک طے کررہے ہیں۔

آپ تحصیل علم کے بعد مستقلاً درس وتدریس میں لگے ہوئے ہیں اور بزرگوں کی طرف سے اصلاح خلق کی جوذمہ داری آپ کے دوش مبارک پر ڈالی گئی ہے اسے بھی باحسن طریقہ انجام دے رہے ہیں ، طالبان علوم نبوت کو بھی سیراب فرمارہے ہیں اور طالبان انوارنبوت کی بھی خبرگیری فرماتے ہیں، جہاں آپ کے شاگردوں کی لامحدود تعداد ملک کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہے وہیں آپ کے مریدین ومسترشدین بھی اکناف عالم میں بکھرے ہوئے ہیں۔

الله تعالیٰ نے آپ کو جہاں بانی، حسن انتظام کا بڑا ملکہ عطافرمایاہے ، مدرسہ کی بلااختلاف رائ ذمہ داری جب آپ کے ناتواں کندھے پرڈالی گئی اور اس کے ناظم بنے تو مدرسہ میں چار چاند لگ گیا، جہاں اسکے درودیوار اور تعمیرات میں تبدیلی ہوئی وہیں تعلیمی شعبہ جات بھی ترقی کی راہ پر چل پڑے ہیں، ہرشعبہ نہایت ہی مستعدی اور حسن نظم کے ساتھ اپنے کام میں رواں دواں ہے۔

آپ جس طرح اپنے متعلقین کی اصلاح اور ان کی ترقی کے لئے فکر مند اور کوشاں رہتے ہیں، اسی طرح عامة الناس کے احوال سے بھی باخبر ہیں ، لوگوں کو برائی سے نکال کر جادہٴ مستقیم پر لاکھڑا کرنے کے لئے دوردراز کا سفر بھی کرتے ہیں اوران کی کسی دینی تنظیم اور ادارہ میں شریک ہوکر ان کی رہنمائی بھی فرماتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے شمار رفاہی کام کرنے والی تنظیموں کے آپ ذمہ دار ہیں۔

آپ کے کام کا دائرہ وسعت اختیار کرتا جارہا ہے ، آپ مدارس کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کے خواہاں ہیں، اسکے نظم وانصرام کو وہ ترقی عطاء کرنے کی فکر میں ہیں جو معاشرہ میں ایک ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو، خانقاہی نظام جو آج مخدوش ومہجور ہوچکا ہے اس کو ایک نئے سرے سے ملک کے طول وعرض میں پھیلانے کی تگ ودوفرمارہے ہیں۔

درحقیقت آپ اکابرین کے سچے جانشین ہیں ان کے منصوبوں کو مزید ترقی دینے کے لئے رات دن فکر مند رہتے ہیں، حضرت اقدس کی پوری زندگی سنت وشریعت کی سچی تصویر ہے ، خواص یعنی طبقہ علماء اور عوام میں آپ کی مقبولیت روز افزوں ہوتی جارہی ہے بلکہ آپ کی اصلاحی اور تجدیدی کاموں کو دیکھ کر لوگ آپ کو اس صدی کے مجدد کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔

ولیس علی الله بمستنکر

أن یجمع العالم فی واحد

شاید الله تعالیٰ آپ سے کوئی بہت بڑا کام لینے والا ہے ، جس کو ظاہرمیں نگاہیں دیکھنے سے عاجز ہیں ، آپ کی یہ اقبال مندی مستقبل کے سنہرے ہونے کا پیش خیمہ ہے، قریب سے دیکھنے والے گرویدہ ہیں ہی دور والے بھی کچھ کم دل گرفتہ نہیں ہیں، الله تعالیٰ حضرت اقدس کے سایہ کو ہم نااہلوں پر قائم رکھے، طویل عمر تک مع صحت وعافیت اور قیامت تک حضرت والا کا فیض دائم وقائم رہے ۔(آمین یا ربّ العالمین بحرمة سید المرسلین علیہ الصلوٰة والتسلیم)

 

Shaykh Ḥakīm Muḥammad Akhtar

Posted April 30, 2015 by Nabeel Khan
Categories: Misc

Nabeel Khan:

I cannot read this without crying profusely…May Allah fill his grave with Noor.

Originally posted on Ḥayāt al-‘Ulamā’:

By Sayyid Shah Ishrat Jameel Meer Sahab
Translated By Abu Salih Mu’adh Khan

Shaykh (Maulana) Hakeem Akhtar Saheb (RA) was born in a noble (middle class) household in the small town of Atheha (UP, India) in the district of Pratapgarh in 1928. The name of his father was Muhammad Hussain (RA) and he was a civil servant. He was the only son of his father with 2 daughters so his father loved him immensely.

Effects of Jazb from childhood:

The effects and signs of Jazb were evident on Shaykh (RA) from very early childhood. His older Sister who was herself a child used to carry him (RA) in her lap to be blown by Imam (Hafiz) Abul-Barakat (RA) who was a Khaleefa of Shaykh (Maulana) Ashraf Ali Thanwi (RA). Shaykh (RA) that even at such a young age the walls, boundaries and even the dust of the Mosque was…

View original 3,921 more words

His Kindness Knows No Boundaries

Posted January 26, 2015 by Nabeel Khan
Categories: Misc

I have just been so busy with work and school that I find very little time to make phone calls, so most of my correspondence is through emails. So This morning I woke up and went to the madrasah to teach as I do any other day.  I received a message from my Shaykh’s (DB) son, that said Hazratwala (DB) was remembering you and asking about you.  Unfortunately I was busy in the madrasah and was unable to speak to him then and there and I quickly replied back that I will call later that evening.  Being on opposite ends of the world means waiting the whole day to make that one phone call that would last about ten to fifteen minutes maximum, however, this feeling of anticipation had overtaken me and I could not wait for those twelve hours to go by.  Finally I was able to call and speak to my Shaykh (DB).  I do not recall ever having such fluid conversations with anyone as I have with my Shaykh (DB).

So one may ask, “What’s the point of all of this?” I would say that is a valid point and a good question.  One may ask, “What does that have to do with the title?” I would reply that is a good question also.  The reason I bring this up is to highlight the fact that our Mashaayikh are so kind and caring that if we remain absent for a bit, they will not abandon us. Normally it is the mureed that yearns to meet the shaykh, and I know that anyone that is a mureed yearns to meet their shaykh as I also do, but it takes one to another world when the shaykh says that he yearns to meet the mureed.  The reality is that the mashaayikh have no real need to meet with the likes of us, but it is their kindness and care that recharge our batteries, which keep us going good for a long time.  Although we do not deserve their kindness and karam, but when the Ahlullah take karam from the unlimited supply of the Kareem, they serve it wholesale to the creation.  If we can just pick up the akhlaaq of the Ahlullah, we would be set for this life and the next.  I pray to Allah that He allows us to instill within ourselves the kindness and character of the Ahlullah.  Aameen.

Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam)—Our Honor, Our Pride, Our Ideal, Be it Cartoons, Movies, or France, This is Our Stance

Posted January 10, 2015 by Nabeel Khan
Categories: Misc

The honor, greatness and love for the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) are deeply entrenched in the heart of every Muslim and are the core of Islam. Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) and every Prophet of Allah is sinless. They are sent as guides for mankind and direct the people to the Oneness of Allah and His obedience. The Prophets of Allah possess the highest level of knowledge of Allah. They also possess the highest level of spirituality and sound character. Every Prophet of Allah condemned disrespect and violence. In Islam, we revere every Prophet of Allah and we do not tolerate any disrespect to any of them.

There are three components in the posting online or anywhere of the depictions against the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam): a) The image of Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam); b) disrespect/Defamation of his character and personality; c) The issue with the use/abuse of freedom of expression.

Overall, Islam forbids making pictures of animate objects. One of the reasons for the prohibition of making and taking pictures of animate objects is that it distracts worshippers from the worship of Allah and can ultimately lead to idolatry. Specifically, in Islam, there are no pictures of prophets, or saintly people. Any alleged depiction of the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) is conjecture and invention by those who want to stir sensation and falsity.

The second component of the cartoons is the disrespect and defamation towards the lofty character of Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam). This has caused great pain and anger to every Muslim around the world. Every Muslim has a right to assert his/her love for the beloved Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) whom Allah sent as the final messenger to humanity, as mentioned in the Qur’an, Islam’s revealed text.

Third, freedom of expression is not an absolute. It has overarching principles. If freedom of expression is absolute, then freedom of religion in a democratic dispensation should also be absolute. Why does freedom of religion have overarching principles? Why are Muslims not allowed to fully practice on every aspect of Islam without any restriction whatsoever? The reason is obvious. The rights of others living as equal citizens must be considered. What then about freedom of expression and right of dignity and religious honor? Freedom of expression has nothing to do with defaming Allah or His Messengers or the religious practices of societies. Such practices are no longer under the sphere of freedom of expression, but are simply campaigns to malign a faith, which serves dark agendas that breed hate, fear and ruin.

In the midst of this, we turn unto Allah, the Guide, to enlighten people about the noble prophets, who are the teachers of humanity. We have firm faith that falsity always perishes before the truth. Any vilification against prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) is bound to be met with more interest and curiosity by honest and open-minded people about the reality of this man whom Allah proclaimed as a “mercy to the worlds” (Qur’an 21:107).

My beloved Shaykh (RA) mentioned about 9 years ago when the Denmark issue occurred, “When the world wants to boycott this country or these products for their wrongs, then that is in its own place.  However, if you really want to make a mark, if you really want to send out a message to people, then abandon sin!  More so, follow the Sunnah of the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) as much as possible. These evil people are trying to get us to be negligent of Allah and His Messenger (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam).  They want to see us spend our time in marches and whatnot.  The thing that will really burn  baatil (falsehood) is looking like Rasulullah (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam), acting like him, talking like him.  If each Muslim emulates the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) in each and every aspect of life, then who will have the capacity to ridicule or even have the courage to mock nearly 2 billion people?! Let’s not be negative and reactive in useless pursuits of begging the kuffar, “O do not mock the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam).” all the while we ourselves as Muslims are hanging by a thread in following the Sunnah.  We should feel remorse and feel ashamed of ourselves.  Had we been strong to follow the Sunnah of the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam), then no one would dare to try such foolish acts.”

I pray to Allah that He gives us all the ability uphold our honor and our pride-the Prophet Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam).  Aameen!

Know Where You Are On the Board-Game

Posted November 30, 2014 by Nabeel Khan
Categories: Misc

We get sidetracked by various situations that we come across; either in our lives or the lives of other people. Society might tell us that we should be worried and concerned about so and so and this and that, but that concern should come from people whom themselves are stable. When a person is not stable them self, they don’t know where they are, then worrying about some other person seemingly may look good, but in reality it is just confusing a person more and more. We are looking for the answers in the wrong place. That is one of the biggest problems that a lot of us have; we look for answers in the wrong place when they are right in front of our face. Everything is right there for us to get to our destination, to get our issues taken care of, to get our questions answered, and to get our problems resolved. It is so simple, but because we have no foundation or base to build upon, then everything else looks attractive to us.

When a person initially begins to focus more on their Islamic progress, then immediately the fundamentals and basics, remain fundamentals and basics, which is why we lose sight of them and try to go into things that are more “advanced” apparently. That happens to beginners often, and beginners need to understand that, it is not their place. The place of a beginner is the beginning. The place of a person who is sort of in the middle is in the middle.  One can never forget the beginning and needs to make sure to keep doing those initial steps to maintain the middle. That person who is towards the end needs to make sure that they are doing everything from A to B to C, all the way to Z and everything in between to ensure they stay at that level. Otherwise they will fall. It is like Snakes and Ladders where eventually a person will move up, and there will be something that will bring them down. However, if they come down, they just have to move on. So if someone has ever “landed on a snake”, then the way to solve that situation is to sincerely repent, and say “Ya Allah, I am stupid, and I am an idiot. I should never have done this. Please give me the ability and strength to refrain from these things so that I can move on with my life.”

Our problem is that when we initially start treading the path towards pleasing Allah, we need to be like a snake that sheds its skin. We need to let go of every negative association we had in the past and just focus on ourselves for a while until we reach a point where those harmful associations become harmless. Afterwards, we can advance to being that person that is unaffected by impropriety of others. We will be the person who can turn the flow of the river. For example, if there are 10 people and 9 of them are punctual with their prayers while one of them is not, when the 9 get up to pray, the one who is not punctual will still get up and go pray with the others. The opposite is also true though. Hopefully we can reach a stage where if we are in a similar situation, we can be the one person unaffected by those other nine people, and get up and not only pray ourselves but motivate the other nine people to pray too.  But this level is not achieved overnight so we should not assume we have attained this stage right away.

So we need to solidify and reinforce our foundations and basics in order to progress and maintain our position on the board-game of life.  It is really simple to play.  The Quran, Sunnah, and methodology of our pious predecessors is the manual.  We move forward by doing what we have told to do and avoiding whatever we have been told to avoid.  There are certain things which act as a “ladder” allowing us to get closer to Allah quickly.  There are also “snakes” in the form of sins that significantly distance us from the proximity of Allah.  Everyone has to figure out exactly where they are on the board, and with the guidance and assistance of  an expert at the game, we can learn to land on the ladders and avoid landing on the snakes. Our experts have been getting help from those whom they considered as experts, and their experts before them, and so on, all the way back to the blessed companions (RA) that were guided by the Expert of all the experts (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam).


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 330 other followers