Archive for the ‘Connection with Allah’ category

Biography of Hazrat Mawlana Mufti Shah Muhammad Abdullah Phoolpuri Sahib (DB)

May 15, 2015

Hazrat Shaykh Mufti Muhammad Abdullah Phoolpuri (DB) is one of leading mashaaikh of Tasawwuf in the present era. Hazratwala (DB) devotes himself entirely to the service of Islam. Hazratwala (DB) completed the Iftaa’ exam successfully and at the top of his class earning the first place position in his student days while Hazrat was in Mazahir ul ‘Uloom Saharanpur. Hazrat broke the  30 year old record held in the madrasah and earned the highest possible grades in the history of the madrasah. Hazratwala (DB) regularly delivers lectures, and he has written many books.

Hazrat Shaykh Mufti Muhammad Abdullah Phoolpuri (DB) is one of the most gifted scholars of Islam today. His reputation and standing to the Muslims of Indian subcontinent needs no introduction. However, for the benefit of others, Hazratwala (DB) has been favored by Allah to have been spiritually nurtured by many of the greatest and most renowned Awliyaa’ (saints) of the recent past. Hazratwala (DB) regularly travels to many countries, transforming the lives of people all over the world. A testament to his deep love for Allah, his uncompromising dedication to Sunnah of the blessed Prophet (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam), and his firm adherence to Shari’ah is that thousands of religious scholars and students of Islamic learning are among his students (mureeds). His inclination towards the Creator – The Almighty Allah began from his early childhood. He dedicated his life to be in the service of those pious servants of Allah, whom the world today refers as Ahlullah (saints) even before he became a teenager. From the tender age of 12, he began attending discourses of the renowned scholars of the time. His discourses permeate the listeners’ hearts with Allah’s love, greatness and the hope of salvation. Every word he utters brings one closer to the Creator – Almighty Allah. His company impresses upon those around him to converge their mental as well as physical ‘ being ‘ into living a life according to the Creator’s criterion. His discourses know no language, color or age barriers and even those alien to Urdu benefit.

In his discourses and writings, he explores profound topics relevant to the Ummah at this time. Other ‘Ulama throughout the world benefit from and utilize his understanding and explanation of man’s relationship with Allah.  They use his explanation about the prevalent spiritual and physical diseases and his prescription for their rectification as a crucial resource to aid them in their work.

مختصر تعارف

عارف بالله پیرطریقت حضرت اقدس مولانا مفتی محمد عبدالله صاحب پھولپوری دامت برکاتہم

نام ونسب: آپ کا نام محمد عبدالله بن ابوالبرکات (عرف چھوٹے بابو) بن شاہ عبدالغنی بن شیخ عبدالوہاب بن شیخ امانت الله ہے، حضرت شیخ امانت الله اپنے وقت کے صاحب نسبت بزرگ اور ولی کامل تھے، آپ کا اصلاحی تعلق حضرت مرزامظہرجان جاناں علیہ الرحمہ کے خانوادہ تصوف سے تھا۔

ولادت: حضرت اقدس کی ولادت آپ کے نانیہال موضع آنوک پوسٹ سرسال ضلع اعظم گڈھ میں ہوئی، دادا جان حضرت پھولپوری  نے آپ کو دیکھ کر فرمایاکہ یہ بچہ بڑا ہوکر بہت بڑا عالم اور میرا جانشین ہوگا، یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ہوئی۔

سکونت: آپ کے دادا حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری  اپنا آبائی وطن چھوڑکر پھولپور ہجرت کرآئے تھے، اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلیئے اسی وجہ سے آپ کا پورا خاندان پھولپور میں مقیم ہوگیا، اسی مناسبت سے آپ بھی ”پھولپوری“ کہلاتے ہیں۔

آپ کے دادا صاحب نسبت بزرگ تھے، آپ ۱۸۹۰ء میں ضلع اعظم گڈھ کے ایک گاوٴں ”چھاوٴں“ میں پیدا ہوئے، علوم ظاہری میں کمال پیدا کرنے کے بعد علوم باطنی یعنی تصوف کی طرف توجہ دی، اور اپنے زمانہ کے حکیم ومجدد شیخ الکل علی الکل حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پربیعت کی، اور اس راہ میں بھی کمال پیدا کیا اور اپنے شیخ کے علوم ومعارف کے امین بن گئے۔

حضرت تھانوی علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے مجدد تھے مجدد ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو دین میں پھیلی ہوئی بدعات کو ختم کرکے قرآن وسنت کو رواج دیتے ہیں،حدیث میں ہے حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ہر سوسال بعد دین کے اندر جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان کو فرد کرنے کے لئے میری امت میں سے ایک آدمی بھیجا جاتا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔

حضرت اقدس تھانوی علیہ الرحمہ بھی ان ہی برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جن سے الله تعالیٰ نے تجدید دین کا کام لیا تھا، اور بلاشبہ وہ اپنے صدی کے مجدد تھے۔

وعظ وتقریر ،تصنیف وتالیف کے ذریعہ الله تعالیٰ نے ان سے اس قدر کام لیا کہ آج اس کا تصور کرنا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے، ملک کے گوشے گوشے میں آپ کی تقریر کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کوئی عالم ایسا نہیں جو آپ کی تصنیفات سے بے نیاز ہو، آپ کی تالیفات کی تعداد پندرہ سوتک پہونچ جاتی ہے۔

ان ہی برگزیدہ ہستی کی صحبت میں حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری  نے بھی تربیت پائی، اور صدق وصفا کے ساتھ ایک مدت تک اپنے باطن کی اصلاح کرتے رہے اور بالآخر خلافت سے سرفراز ہوئے ، حضرت تھانوی کے دل میں ان کا احترام اس طرح راسخ ہوا کہ خود شیخ اپنے مرید کے متعلق یہ فرمایا کرتے کہ حضرت مولانا پھولپوری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں خود احترام کرتا ہوں، جب یہ آتے ہیں تو میں اپنے قلب میں سکونت محسوس کرتا ہوں اور ان کے کثرت ذکر کی وجہ سے میرے دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔

حضرت تھانوی  کی وفات کے بعد تمام متعلقین نے آپ کو اپنا بڑا تسلیم کرلیا بلکہ ان میں سے اکثرنے اپنی اصلاح آپ سے کرائی ، اور کئی ایک آپ سے باضابطہ بیعت ہوگئے۔

۱۳۴۹ء میں آپ نے شیخ ومربی کے حکم سے ایک ادارے کی بنیاد ڈالی، یہی ادارہ آج مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم کے نام سے مشہور ہے اور ترقی کے بام اوج کو چھورہا ہے۔

آپ نے خون جگر سے اس کو سینچا، پروان چڑھایااوریہیں سے اصلاح افراد کا وہ عظیم الشان کام انجام دیا جس کی وجہ سے پورا علاقہ بددینی کی راہ پر جاتے جاتے رک گیا اور اپنی پوری زندگی اسی کارخیر میں لگادی ، مخلوق خدا کو ہرطرح سے سمجھابجھاکرراہ راست پر لانے میں اپنی پوری توانائی صرف فرمادی۔

آپ فطرةً محتاط تھے، تقویٰ اور پرہیز گاری کے آثار آپ کے اعضاء سے چھلکتے محسوس ہوتے، اسی احتیاط اور تقویٰ کا اثر تھا کہ کبھی بھی مدرسہ کی کوئی چیز نہیں چکھی، نمک سے بھی حتی الامکان احتراز کرتے رہے، تنخواہ تو دورکی بات ہے، علاقہ اس بات کے لئے شاہد ہے۔

آپ علم وفضل مین بھی ایک امتیازی درجہ رکھتے تھے، ادق سے ادق اور غامض سے غامض مضمون کو بڑے خوش اسلوبی سے سمجھادیا کرتے تھے، اسی وجہ سے ایک مرتبہ دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لئے حضرت تھانوی نے آپ کو منتخب فرمایا تھا۔

میدان تصوف کے آپ شہسوار تھے، مسترشدین کی اصلاح وتربیت اپنے شیخ حضرت تھانوی کے ہوبہو فرماتے تھے، ملک کے بے شمار علماء صلحاء اور نواب آپ کے ارادت مندوں میں داخل تھے، ان کی دیکھ ریکھ آرام وراحت کا بڑا خیال فرماتے۔

آپ کے خلفاء بھی بڑے پائے کے ہوئے اور بے شمار لوگوں نے اپنی مکمل اصلاح آپ سے فرمائی ،ان ہی تربیت یافتہ لوگوں میں سے حضرت اقدس مولانا شاہ ابرارالحق صاحب حقی نورالله مرقدہ‘ بھی ہیں، حضرت مولانا ابرارالحق صاحب ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت تھانوی رحمة الله علیہ نے زمانہ طالب علمی ہی میں بیعت فرمالیا تھااور کچھ ہی دنوں کے بعد خلافت سے سرفراز فرمایا، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت پھولپوری قدس سرہ‘ کے دامن تربیت سے وابستہ ہوگئے اور ان ہی کی خدمت میں رہ کر ایک عظیم مصلح بن کرنکلے۔

آپ کی اصلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے ،ہرشعبہ میں جہاں جہاں سنت کے خلاف امور رواج پاگئے تھے آپ نے اس کی اصلاح فرمائی اور اس کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہے، اسی وجہ سے آپ محی السنّہ سے مشہور ہوئے۔

الله تعالیٰ نے آپ سے بھی بڑا کام لیا ، اپنے علاقہ ہردوئی میں ایک دینی ادارہ قائم کیا جو ہر چہارسو مشہور ہے، اس کے علاو ہ اور بھی بے شمار دینی ادارے اور رفاہی کاموں کے نگراں اور ذمہ دار تھے، اور دعوة الحق کے تحت بے شمار مکاتیب اور مدارس کا قیام فرمایا، اور آخر میں تقریباً ۱۶/سال تک مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔

آپ کے مریدین اور خلفاء کا ایک طویل سلسلہ بھی ملک اور بیرون ملک پھیلا ہوا ہے ، اسی مضبوط اور طویل سلسلہ کی ایک روشن کڑی جنیدوقت ، بقیة السلف، محدث عصر، قطب زمانہ عارف بالله حضرت اقدس مولانا شاہ مفتی محمد عبدالله صاحب پھولپوری ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر کی ذات گرامی ہے ، آپ کی ذات دادا جان جضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری  اور حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی ، دونوں حضرات کی تعلیمات اور دعاوٴں کا سنگم ہے اور مرکز ہے، حضرت پھولپوری کے علوم ومعارف بھی آپ کو ودیعت کی گئی اور حضرت ہردوئی قدس سرہ‘ کا جذبہ اصلاح بھی وافرمقدار میں عطاکیا گیاہے۔

الله تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازہ ہے، سوزوگداز دل عطا کیا گیا ہے، اور امت کی تڑپ بھی اندرون قلب سے ظاہر ہوتی ہے، علم سے بھی بہرہ ور ہیں، عمل کا داعیہ بھی پیدا کیا گیا ہے، رکھ رکھا میں سادگی ، معاملات میں صفائی، کردارمیں پختگی، گفتار میں جاذبیت، ملاقات میں اپنائیت، ہرہر ادا سے سنت کی خوشبو پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، حسن سیرت وصورت کے ساتھ ساتھ دنیاوی جاہ وجلال اور مال ومنال سے بھی بہرہ مند ہیں، آپ کے پاس جو بھی آتا ہے ظاہری ہو یاباطنی، مادی ہو یا روحانی، جسمانی ہو یا قلبی، دینی ہو یادنیاوی، اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق وہ دامن مراد بھر کرجاتا ہے، وہ خود استفادہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی درکا راہی بناتا ہے، بڑوں کی توقیر، چھوٹوں پر شفقت ، طلبہ پر مہربانیاں اور مریدین پر آسانیاں آپ کی فطرت ثانیہ ہے، ہزاروں کی تعداد میں مسترشدین راہِ سلوک طے کررہے ہیں۔

آپ تحصیل علم کے بعد مستقلاً درس وتدریس میں لگے ہوئے ہیں اور بزرگوں کی طرف سے اصلاح خلق کی جوذمہ داری آپ کے دوش مبارک پر ڈالی گئی ہے اسے بھی باحسن طریقہ انجام دے رہے ہیں ، طالبان علوم نبوت کو بھی سیراب فرمارہے ہیں اور طالبان انوارنبوت کی بھی خبرگیری فرماتے ہیں، جہاں آپ کے شاگردوں کی لامحدود تعداد ملک کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہے وہیں آپ کے مریدین ومسترشدین بھی اکناف عالم میں بکھرے ہوئے ہیں۔

الله تعالیٰ نے آپ کو جہاں بانی، حسن انتظام کا بڑا ملکہ عطافرمایاہے ، مدرسہ کی بلااختلاف رائ ذمہ داری جب آپ کے ناتواں کندھے پرڈالی گئی اور اس کے ناظم بنے تو مدرسہ میں چار چاند لگ گیا، جہاں اسکے درودیوار اور تعمیرات میں تبدیلی ہوئی وہیں تعلیمی شعبہ جات بھی ترقی کی راہ پر چل پڑے ہیں، ہرشعبہ نہایت ہی مستعدی اور حسن نظم کے ساتھ اپنے کام میں رواں دواں ہے۔

آپ جس طرح اپنے متعلقین کی اصلاح اور ان کی ترقی کے لئے فکر مند اور کوشاں رہتے ہیں، اسی طرح عامة الناس کے احوال سے بھی باخبر ہیں ، لوگوں کو برائی سے نکال کر جادہٴ مستقیم پر لاکھڑا کرنے کے لئے دوردراز کا سفر بھی کرتے ہیں اوران کی کسی دینی تنظیم اور ادارہ میں شریک ہوکر ان کی رہنمائی بھی فرماتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے شمار رفاہی کام کرنے والی تنظیموں کے آپ ذمہ دار ہیں۔

آپ کے کام کا دائرہ وسعت اختیار کرتا جارہا ہے ، آپ مدارس کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کے خواہاں ہیں، اسکے نظم وانصرام کو وہ ترقی عطاء کرنے کی فکر میں ہیں جو معاشرہ میں ایک ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو، خانقاہی نظام جو آج مخدوش ومہجور ہوچکا ہے اس کو ایک نئے سرے سے ملک کے طول وعرض میں پھیلانے کی تگ ودوفرمارہے ہیں۔

درحقیقت آپ اکابرین کے سچے جانشین ہیں ان کے منصوبوں کو مزید ترقی دینے کے لئے رات دن فکر مند رہتے ہیں، حضرت اقدس کی پوری زندگی سنت وشریعت کی سچی تصویر ہے ، خواص یعنی طبقہ علماء اور عوام میں آپ کی مقبولیت روز افزوں ہوتی جارہی ہے بلکہ آپ کی اصلاحی اور تجدیدی کاموں کو دیکھ کر لوگ آپ کو اس صدی کے مجدد کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔

ولیس علی الله بمستنکر

أن یجمع العالم فی واحد

شاید الله تعالیٰ آپ سے کوئی بہت بڑا کام لینے والا ہے ، جس کو ظاہرمیں نگاہیں دیکھنے سے عاجز ہیں ، آپ کی یہ اقبال مندی مستقبل کے سنہرے ہونے کا پیش خیمہ ہے، قریب سے دیکھنے والے گرویدہ ہیں ہی دور والے بھی کچھ کم دل گرفتہ نہیں ہیں، الله تعالیٰ حضرت اقدس کے سایہ کو ہم نااہلوں پر قائم رکھے، طویل عمر تک مع صحت وعافیت اور قیامت تک حضرت والا کا فیض دائم وقائم رہے ۔(آمین یا ربّ العالمین بحرمة سید المرسلین علیہ الصلوٰة والتسلیم)

 

Advertisements

Gifts of Obedience

August 20, 2014

Hasan Al-Basri (RA) said, “That individual who comes out of the immodesty and immorality of disobedience and sin and enters into the morality of faith, virtue, and obedience, he is blessed with the gifts:

1. He enjoys being in seclusion in the love of Allah.

2. He is given true wealth in the form of contentment with whatever he has.

3. Allah shows him his own faults.

Ramadhan: The Month of Taqwa

July 2, 2014

We as Muslims are encouraged to have a good opinion of others, and we are also encouraged to speak nicely regarding our deceased.  With that in mind, the dominant thought in our minds is that Allah granted our Shaykh, Shaykh-ul-‘Arab wa al-Ajam Hazrat Mawlana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Sahib (RA) the highest levels of wilayat of the Awliyaa’ Siddiqeen.  He was blessed with a heart that was restless in the love of Allah, and a soul that was constantly yearning to meet its Master.  The immense love of Allah that rested as a sanctified secret hidden in the hearts of the Awliyaa was made manifest to the world by Hazratwala (RA) through his preaching to the world via his lectures and travels throughout the world.  The  noor of Allah’s love that Hazratwala (RA) internalized manifested itself very visibly on his person externally as well.  It is for this reason that once a person set their gaze on Hazratwala (RA) would forget to look anywhere else.  Anyone who would sit in Hazrtwala’s (RA) gatherings of virtue would forget the route to gatherings of vice.  Whoever would link their sick heart to his sound heart would transform from a sinner to a lover of the divine.    Hazratwala’s (RA) blessed life was spent in this thought that how the entire Ummat of Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) could completely bring to life the Shari’ah of Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam) thereby becoming bearers of the noor of Muhammad (Sallallahu ‘Alayhi Wa Sallam).  In an effort to transfer this concern within the ummah, Hazratwala (RA) would deliver lectures drowned in the love of Allah, wherein a conscious effort was made to keep the subtleties of tasawwuf were kept secondary while the finer points of the Shari’ah were always made primary.  This can be seen inn his own words, “Tasawwuf is nothing but lovingly executing the laws of the Shari’ah.”  Within Shari’ah, the highest level is that of the Faraa’idh (the obligatory acts), and after prayer, the next important fardh act is that of fasting in Ramadhan.

The following posts are excerpts taken from various lectures delivered by Hazratwala (RA) pertaining to the fasts of Ramadhan and the various rulings related to fasting.  Hazratwala (RA) has eloquently captured the legal and spiritual essence of fasting in these excerpts.

Since Ramadhan is a time when prayers are readily accepted, it is requested from the respected readers to please make special dua’ for Hazratwala (RA).  As thorns are part and parcel of a rose, everyone is requested to make dua for me along with your duas for Hazratwala (RA).  I pray that Allah gather us all under His shade on that day when there will be no shade apart from His shade on the basis of our love for those that are the beloveds of Allah.

Leave Yourself and Your Self at the Door and then Enter

October 19, 2011

Alhamdulillah, we have been taught by our Shaykh (DB) that the salik should not have an opinion regarding matters of islah.  It is for this very reason that one must examine a shaykh inside out prior to forming a relationship with that shaykh.  Once a relationship has been formed with a shaykh, then the salik must leave them self and their self i.e. their nafs at the door and then enter into the silsilah of the shaykh.  This is the only way to benefit completely from the shaykh.

A major illness that is common amongst us mureeds is that we opine that we have a right to opine over any matter.  May Allah forgive us, but when a few mureeds discuss some matter, and one of them says that our shaykh has said this regarding this issue.  The other mureeds will comment by saying, “Hazrat is not well-versed with the situation in which we are in.” Mureeds are supposes to be helpful for other mureeds.  This will only happen when both mureeds are headed in the same direction and they have the same purpose.

The effect of suhbat is as bright as day.  Mureeds need to be extremely mindful of who they associate with.  Mureeds feel that they can associate with anyone they wish.  The most beneficial suhbat a person can have is with their shaykh and other pious individuals. Obedience to the shaykh is mandatory. Now-a-days, a new disease has cropped up amongst the mureeds, and that is the disease of hiding things from the shaykh.  Albeit, giving people the benefit of the doubt, their intentions may be good. However, as a general rule, if you have to hide something from your shaykh, there can be no khayr or goodness in that.  Some people fear that their shaykh will get angry.  This too, is a positive thing because the shaykh getting upset will lead to one’s islah.  We sometimes speak with people who have negative things to say about our shaykh and other mashaaikh.  This is a major sin of the ears.

A mureed has to understand that a basic right of the shaykh is i’timad, i.e. reliance. This means that I rely completely on Allah in that my shaykh is the most beneficial person for me.  Please let the shaykh do his job and the mureed should try to fulfill the other basic rights of the shaykh and not try to second guess the shaykh.  The shaykh and the mureed are not playing a game of chess where each player thinks twenty some odd moves ahead.

For this reason we must leave ourselves and our self at the door and then enter properly and completely into the silsilah.  Let us not use our own mind to try to understand things which are beyond our understanding. Often times, mureeds find that their friends are those poor souls who are no longer part of the same silsilah. These people have it in for the shaykh and often make up stories about the shaykh.  They will encourage the simple obedient mureed to secretly disobey their shaykh.  The only rational outcome of such company is confusion and doubts. How is someone like that not going to cause doubts? If they can encourage one to undercut one’s own shaykh, then I think it’s obvious that they are going to cause problems.

The biggest problem with all of us is “Me, Myself, and I”.  The best way to rid ourselves of these doubts and confusions is to stop making assumptions about the shaykh.  We feel that since our shaykh is human, and humans are prone to err, therefore, my shaykh can possibly err in making my islah.  This faulty thinking and is in reality an objection against Allah.  The reason for this is due to the fact that the shaykh only figuratively makes our islah.  In reality, it is Allah that makes our islah.  The best way for one to
relieve one’s self of their doubts is to stop making assumptions about their shaykh period. Whether they are right or wrong, one is not going to benefit from trying to break down the shaykh’s every move, especially when one’s analyses are pretty much always wrong. That may seem harsh to many, but it is to teach us a lesson. Whether we learn it or not is up us.

To end, I’d like to end with a a few lines of poetry by my beloved and respected teacher, Hazrat Mawlana Mansoor-ul-Haq Sahib (DB), which goes as follows:

Khud apni rai pe chalne ko payrawi nahi kehte

Ghulami nafs ki karne ko bandagi nahi kehte

Nazar ke chor ke sar par nahi hai taj-e-wilayat

Jo muttaqi nahi hota ussey wali nahi kehte

Agar mili na ghulami kisi Khuda ke wali ki

To ‘ilm-e-Dars-e-Nizami ko ‘ilm hi nahi kehte.

A Sense of Belonging and Deserving

October 19, 2011

Do you know who I am?” “How could he talk to me like that?” All of us have heard or used these phrases or made similar statements. Due to our own inflated self image, we feel that we deserveto be treated with certain level of honor, respect, and reverence. Often times, this malady effects those people who appear to be very pious. Because Allah gave us the taufique to pray salat regularly, grow a beard, or wear hijab, we act as if we are Allah’s gift to mankind. We begin to expect certain treatment from others and sometimes regard them as lower than ourselves due to them not performing as many aamal as us.

 

What we fail to realize is that the taufique to do any good deed is solely through the Mercy of Allah Ta’ala and the barakah of our Mashaaikh. None of our kamal is from ourselves. If Allah wanted to he could snatch the ability to do any good deed away from us instantly.

 

Regarding oneself to be great is extremely dangerous. One of the duas that Nabi (SA) taught us was “Allahumaj ‘alnee fee ‘aynee sagheera wa fee ‘ayunin naasi kabeera.” Oh Allah make us small in our own eyes and large in the eyes of the people. If one considers themselves to be small, they would never expect anything from anyone.

 

The root cause of this feeling of superiority is the atom bomb of pride. Pride is so dangerous that the one having even an atom’s weight of it in their heart will not enter Jannah. The way of curing this disease is for us to humble ourselves in front of the people that we feel are not treating us according our status. We should go out of our way to go say Salaam first to these people, make dua for them and request duas from them, and to get gifts for them if possible. By lowering ourselves in front of the one’s we feel disrespected by, InshAllahu Ta’ala this disease will leave our hearts.

We are not deserving of a single ni’mat yet Allah Ta’ala created us as humans, then made us from the Ummat of Nabi (SA), then gave us concern for deen, and then gave us the ability do to good deeds. Rather than worry about what we deserve from the makhlooq, we should ponder over what level of love and obedience the Khaliq deserves from us, and focus on trying to fulfill His Rights. Once Maulana Thanvi (RH) took an oath in the state of fasting that “I consider myslef at present to be worst of all Muslims, and in terms of the future, worse than all humans.” If such a great man thought of himself in those terms, what right do we have to think of ourselves as so great?

 

Mitaana kya hai? Paana hai. 

Paana kya hai? Mitaana hai.